پیر، 25 مئی، 2026

دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں



 دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں

یار کی شکل ہے اور یار میں فنا ہوں میں

بشر کے روپ میں اک راز کبریا ہوں میں
سمجھ سکے نا فرشتے کہ اور کیا ہوں میں

میں وہ بشر ہوں فرشتے کریں جنہیں سجدہ
اب اس سے آگے خدا جانے اور کیا ہوں میں

پتہ لگائے کوئی کیا میرے پتے کا پتہ
میرے پتے کا پتہ ہے کہ لاپتہ ہوں میں

مجھی کو دیکھ لیں اب تیرے دیکھنے والے
تو آئینہ ہے مرا تیرا آئینہ ہوں میں

میں مٹ گیا ہوں تو پھر کس کا نام ہے بیدم
وہ مل گئے ہیں تو پھر کس کو ڈھونڈتا ہوں میں

حضرت بیدم شاہ وارثیؒ

جمعہ، 2 اپریل، 2021

تُو نے اپنا بنا کر نظر پھیر لی، میرے دل کا سکوں ناگہاں لُٹ گیا

 

تُو نے اپنا بنا کر نظر پھیر لی، میرے دل کا سکوں ناگہاں لُٹ گیا

مجھ کو لُوٹا ترے عشق نے جانِ جاں ،میں ترے عشق میں جانِ جاں لُٹ گیا

چند تنکے فقط میری جاگیر تھے ،وہ بھی بادِ خزاں لوٹ کر لے گئی
میں نے دیکھا نہ فصلِ بہاری کا منہ ، میں قفس میں رہا، آشیاں لُٹ گیا

میں نے لُٹنے سے پہلے یہ سوچا کہ میں ، راز کی بات ہی دل سے کہہ کر لُٹوں
راز کی بات تو رہ گئی راز میں، مجھ سے پہلے میرا رازداں لُٹ گیا

دل میرا عشق بازی میں انجان تھا، آگیا اک بُتِ بے وفا پہ یوں ہی
دل نے سوچا نہ سمجھا ، نہ پہچان کی، اس کو لُٹنا کہاں تھا، کہاں لُٹ گیا

میں نے خود ہو کے لُٹنا گوارا کیا، سمجھا تیری خوشی کو میں اپنی خوشی
میں نے تیرے اشاروں کا رکھا بھرم ، تُو نے چاہا جہاں، میں وہاں لُٹ گیا

حُسن والوں نے لوٹا کچھ اس وار سے ، ہوش جاتے رہے، آبرو چھن گئی
میرے لُٹنے کا عالم نہ کچھ پوچھیئے، میں سرِ کُوئے حُسنِ بُتاں لُٹ گیا

رہ گیا میرے لُٹنے کا زندہ نشہ، دھوم میری زمانے میں ہر سُو مچی
وہ جگہ یادگارِ محبت بنی، میں مُحبت کی خاطر جہاں لُٹ گیا

چشمِ ساقی نے لُوٹا ، پلا کے نشہ، کفرو ایماں کی شُد بد نہ مجھ کو رہی
میں ہوں انورؔ وہ رندِ خرابات جو، کعبہ و دیر کے درمیاں لُٹ گیا

دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں

  دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں یار کی شکل ہے اور یار میں فنا ہوں میں بشر کے روپ میں اک راز کبریا ہوں میں سمجھ سکے نا فرشتے کہ اور کی...